We welcome you to our website

Anjuman Vikas Urdu Hind ,Karnataka's Big and Historical Achievement

Review Report on the Situation of Urdu Schools in Karnataka Submitted to the Government

On Thursday , September 10, 2026, Anjuman Vikas Urdu marks a bright day for the advancement of a golden chapter in the history of Indo-Karnataka.The President of Anjuman Mohammad Obaidullah Sharif took a wise step in the all-round development and welfare of the state-run Urdu medium schools of the state of Karnataka by adopting a study committee based on four IAS and one KAs Chief Officer

ۓ تشکیل دی ۔ جناب عزیزاللہ بیگ مؤظف آئی اے یس افسر اور سابق چیرمین،کرناٹک اردو اکادمی،کی قیادت میں جناب ادونی سید سلیم  آئی اے یس (مؤظف)،جناب صلاح الدین آئی اےیس (مؤظف)،جناب یم اے خالد  کے اے یس (مؤظف) ،جناب میر انیس احمد ،آئی اے یس (مرحوم)،  پر منحصر اسٹڈی گروپ کمیٹی نےاپنے صرفہ ء خاصـ سےریاست کے چند منتخب اور اہم اضلاع کا دورہ کر کے اس کی بنیاد پر تمام اضلاع کی ایک جامع رپورٹ دو سالہ کڑی محنت اور لگن سےتیار کر کے انجمن ترقی اردو ہند کرناٹک کے صدر جناب محمد عبید اللہ شریف کے ہاتھوں ایک تقریب کا اہتمام کر کےانہیں سپرد کی گئی جو چارسو اکیس صفحات پر مشتمل ہے۔

جناب محمد عبیداللہ شریف صاحب اور دیگر عہدیدارانِ انجمن نے اس رپورٹ کو مسلم وزرا و سیاسی قائدین کو پیش کرنے کا اہتمام جناب سلیم احمد ، چیرمین ، قانون ساز کونسل، حکومت ِکرناٹک کی سر پرستی میں ودھان سودھا میں ٹھیک شام چار بجےکیا  جس میںشری  مدھو بنگارپا وزیر تعلیم برائےپرایمئر ی اور سکینڈری ا یجوکیشن ، جناب یو ٹی قادر وزیربرائے صحت،اقلیتی امور ،وقف اور حج،تغذیہ اور سِول سپلائس کے وزیر جناب رضوان ارشد ،وزیر برائے ہؤزنگ جناب بی زیڈ ضمیر احمد خان،جناب منصور علی خان یم پی راجیہ سبھا،جناب ین اے حارث، یم یل اے ،چیرمین بی ڈی اے ، محترمہ کنیز فاطمہ یم یل اے، یا سر پٹھان یم یل اے، محترمہ بلقیس بانویم یل سی اور وائ سعید احمدچیرمین دیوراج ارس ٹرک ٹرمینل اور صدر ِ انجمن کی قیادت میں انجمن کا وفد جن میں نائب صدور جناب سید اشرف اور جناب اعجاز علی جوہری، جنرل سکریٹری جناب مبین منور  ،آرگنیزنگ سکریٹری جناب اطہر ؔ شیموگوی، زونل سکریٹری محترمہ فریدہ رحمت اللہ خان اور خازن جناب شفیق عابدی شامل رہے ۔

In the office of Mr. Saleem Ahmed ,Chairman, Legislative Council , in the presence of Mr. Madhu Bangarpa, Minister of Education, Health, Minority Affairs, Waqf and Hajj, Mr. U.T. Qadir , Member of the Study Group, Mr. Adoni Saleem presented the methodology adopted in the preparation of this report, the problems faced by the Government Urdu Schools and their solution, as well as the recommendations made to the Government with the help of English and Kannada languages.

وزیر تعلیم نے ان تمام نکات کو بغور سنا اور محکمہ ء تعلیم کے اڈیشنل چیف سکریٹری سریمتی وی رشمی مہیش سے نوٹ کروایااور فوری طور پر عملی جامہ پہنانے کا حکم دیا۔اور جناب یوٹی قادر وزیر برائےاقلیتی امور جن کے ما تحت مو لانا آزاد اور مرارجی دیسائ ریسیڈنشیل اسکول میں انہوںنےبھی اُنکےمحکمہ کو دی گئ سفارشات کو نوٹ کیا اور کہا کہ اُنہوں نے ایک وژن گروپ جناب منصور علی خان کی چیرمین شپ میں تشکیل دی گئ ہےجو تعلیمی اداروں کی دیکھ بھال کی ذمہ دارہےاور ان سے کہا کہ اس رپورٹ کا جائزہ لیں اور اس بات کی رائے دیں کے اسے عملی جامہ کیسے پہنایا جاسکتا ہے۔

پیش کردہ تمام مسائل اور سفارشات پر وزیر تعلیم اور مسلم وزراء سے کھل کر بحث ہوئی۔سب نے اس جامع رپورٹ کو سراہا۔ ملک میں کسی بھی زبان کی تعلیمی میدان میں بڑھتی ہوئی زبوں حالی پر تیار کردہ یہ پہلی جامع  اور سائینٹفک رپورٹ ہے جو حکومت ِکرناٹک کو انجمن ترقی اردو ہند ، کرناٹک کی جانب سے پیش کی گئی ہے ۔ اس رپورٹ پر مکمل بحث کے بعد صدر انجمن جناب عبید اللہ شریف نے جناب سلیم احمد اور رضوان ارشد کو اسٹڈی رپورٹ کی مجلـدکاپیاںپیش کیں۔جناب سید اشرف نے مسٹر مدھو بنگارپاکو ،جناب اعجازعلی جوہری نے جناب ضمیر احمد کو ، جناب یم اے خالد نے جناب یو ٹی قادر کو، جناب اطہر ؔ شیموگوی نے جناب منصورعلی خان کو اور محترمہ فریدہ رحمت اللہ نے محترمہ بلقیس بانو کو اسٹڈی رپورٹ کی کاپیاں پیش کیں۔اس موقع پر ذرائع ابلاغ  کا کثیر عملہ بھی موجود رہا۔      

The Origin, Evolution and Problems of Urdu in South India

Introduction to Anjuman Vikas Urdu Hind

” انجمن ترقی اردو (ہند)” ایک قدیم انجمن ہے جو اُردو کی بقاء ، تحفظ اور ترقی کے لئے قائم کی گئی تھی- 1903 میں جب آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس دہلی میں منعقد ہوئی-اس کانفرنس کے کئی شعبے قائم کئے گئے-ایک شعبہ علم قائم ہوا-جس کا مقصد اردو زبان کی ترقی تھا-اس طرح” انجمن ترقی اردو (ہند)” پیدا ہوئی- ملک کی مشہور اور عظیم شخصیات مولانا ابوالکلام آزاد، حکیم اجمل خان، مولانا شبلی نعمانی، مولانا الطاف حسین حالی، مولوی عبدالحق وغیرہ نے اس ادارے کی سرپرستی فرمائی-ملک کی کئی ریاستوں میں ” انجمن ترقی اردو ” کی شاخیں قائم ہوئیں اور کئی ریاستوں کے نوابوں ، امراودانشوران نے اس کی سر پرستی فرمائی- کرناٹک میں بھی انجمن ترقی اردو(ہند) کی شاخ قائم ہوئی-اس وقت کے وزیربرائے ٹرانسپورٹ جناب محمد علی مہتاب علی، روز نامہ پاسبان کے بانی جناب اسماعیل تابش یم یل سی، جناب یس ایم احمد تاج، جناب شیخ محمد مصلح الدین، جناب سی آر محمد سید سیف الدین یم یل سی، جناب امامی صاحب وغیرہ شخصیات نے اس انجمن کی سرپرستی فرمائی ہے-اُردو کی ترقی اور تحفظ کے لئے کام کیا-انجمن ترقی اردو کےطرف سے اپریل 26 اور 27-1975 میں لال باغ کے گلاس ہاؤز میں دو روزہ عظیم الشان آل انڈیا مشاعرہ منعقد کیاگیا-اس وقت کے گورنر موہن لال سکھاڈیہ نے اس مشاعرہ کا افتتاح کیا-دوسرے دن کے مشاعرہ میں وزیر اعلیٰ دیوراج ارس مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک رہے-اس یاد گار مشاعرہ کو کرناٹک کے گورنر اور وزیر اعلیٰ نے خوب سراہا اور اسے ایک تاریخی مشاعرہ قرار دیا-اس موقع پر وزیر اعلیٰ دیوراج ارس نے کرناٹک میں اردو اکادمی قائم کرنے کا اعلان کیا-کرناٹک اردو اکادمی یکم جون 1977 میں قائم ہوئی-اس طرح انجمن ترقی اردو(ہند) کی کاوشوں سے کرناٹکا اردو اکادمی قائم ہوئی- اس یادگار مشاعرے میں ملک کے ممتاز اور مشہور شعرائے کرام شریک رہے-جن میں صباء افغانی، علی سردار جعفری ، خمار بارہ بنکوی، اسلم اکبر آبادی، محترمہ عزیز النساء ، صلاح الدین نیر حیدر آبادی، اظہار افسر مظفر نگری، مبشر قریشی بنگلور، جان نثار اختر، عزیز قیسی، عالم فتح پوری، گلزار دہلوی ، طارق بدایونی علی گڑھ، ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی دہلوی، حفیظ میرٹھی ہلال سیوہاردی، شمس مینائی، شاہد بجنوری، حنیف کلیم، سلیمان خطیب ، ڈاکٹر زبیر رضوی وغیرہ شریک تھے-

کرناٹک میں جب گوکاک کمیٹی نے حکومت کو رپورٹ پیش کی تو اس میں لسانی زبانوں خصوصاََ اردو زبان کو نظر انداز کئے جانے کا خطرہ تھا- اس کو محسوس کرتے ہوئے ” انجمن ترقی اردو” حرکت میں آئی-31جنوری 1982ء میں ایک ہنگامی میٹنگ طلب کرکے جناب محمد علی صاحب کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دے کرگوکاک کمیٹی رپورٹ میں اُردو کو نظر انداز کئےجانے سے متعلق  حکومت کو متوجہ کرنے کے لئے ایک میمورنڈم پیش کیا گیا- انجمن ترقی اردو کرناٹک کی سر گرمیاں گزشتہ ایک عرصہ سے دھیمی پڑگئ تھیں-جناب عبدالحمید اورجناب خلیل فتح نے انجمن کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن کام آگے بڑھ نہیں پایا-اب  روز نامہ پاسبان کے زیر اہتمام آل انڈیا مشاعرے منعقد کروائے تھے جو کامیاب اور یادگار رہے-انہوں نے ریاست کے کئی ادباء و شعراء کی مجموعہ کلام طبع کرکے شائع کرائیں ہیں-آپ اردو زبان و ادب کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں-انہوں نے ریاست کے تما م اضلاع کے اردو دانوں کو اعتماد میں لے کر ” انجمن ترقی اُردو ہند کرناٹک” کو دوبارہ زندہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے-
In view of the contemporary requirements, the website of Anjuman Vikas Urdu Indo-Karnataka was launched on Saturday 14th May 2022 in the presence of Dr. K. Rehman Khan Sahib former Union Minister and Mr. Rizwan Arshad Sahib Yamla Shivajinagar Bangalore at the hands of Padma Shri Akhtaralavasa Chairman Khusro Foundation former President Maulana Azad University Jodhpur. The meeting was chaired by Mohammad Obaidullah Sharif Sahib. 

Anjuman Vikas Urdu History of Indo-Karnataka

اردو زبان ہندوستان کی مشترکہ زبان اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب و ثقافت کی علمبر دار ہے -اپنے لہجے کی ملاحت و شیرینی کے سبب اس زبان کو عالمیگر مقبولیت حاصل ہے- دنیا کےبیشتر حصوں میں یہ زبان بآسانی بولی اور سمجھی جاتی ہے- اس زبان کی عالمگیریت سے کسی کو انکار نہیں- البتہ اس کے نقطہء آغاز یعنی اس زبان نے کہاں جنم لیا اور اس کی نشوونما اور پرورش میں ہمارے ملک ہندوستان کے کس خطے نے نمایاں کردار ادا کیا ہے، اس سے متعلق متفقہ طور پر کوئی بھی رائے مدلل طور پر ثابت نہیں ہوتی ہے کہ اصل میں یہ کہاں پیدا ہوئی، پلی بڑھی-کسی بھی زبان کو عوام و خواص میں اپنی شناخت اور اپنی پہچان بنانے میں ایک مدت لگ جاتی ہے-اس دوران اسے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے- ترمیمات و اضافتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے- بالآخر ایک مدت بعد کوئی بھی زبان اپنے ایک خاص رنگ روپ میں وجود پاتی ہے-آج ہماری زبان اردو دنیا کی دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان کا درجہ حاصل کرچکی ہے جو واقعی ہم اردو والوں کے لئے بڑی فخر کی بات ہے-اس کے مزید فروغ و ترویج کے سلسلے میں انجمن ترقی اردوکرناٹک نے یہ سیمینار منعقد کیا ہے-اس میں اردو  کے بلند پایہ اور قد آور قلمکاروں نے اپنے مقالہ جات پیش کئے ہیں جن میں ان حضرات نے اردو کی ابتداوارتقاء کے موضوع پر بڑی عرق ریزی سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے- جن کے مطالعے سے ایک قاری اردو زبان کی ابتداو ارتقا کے متعلق کار آمد معلومات حاصل کرسکتاہے-
اردو کی ابتدا و آغاز کے بارے میں کئی مختلف نظریات ملتے ہیں یہ نظریات آپس میں اس حد تک متضاد ہیں کہ انسان چکرا کر رہ جاتا ہے- ان مشہور نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ ان میں اردو کی ابتدا کی بنیاد بر صغیر ہند و پاک میں مسلم فاتحین کی آمد پر رکھی گئی ہے اور بنیادی استدلال یہ ہے کہ اردو زبان کا آغاز مسلمان فاتحین کی ہند میں آمد اور مقامی لوگوں سے میل جول اور مقامی زبان پر اثرات و تاثر سے ہوا اور ایک نئی زبان معرض وجود میں آئی جو بعد میں اردو کہلائی- کچھ ماہرین لسانیات نے اردو کی ابتدا کا سراغ قدیم آریوں کے زمانے میں لگانے کی کوشش کی ہے-بہر طور اردو زبان کی ابتدا کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے-اردو زبان کے محققین اگرچہ اس بات پر متفق ہیں کہ اردو کی ابتدا مسلمانوں کی آمد کے بعد ہوئی لیکن مقام اور نوعیت کے تعین اور نتائج کے استخراج میں اختلاف پایا جاتاہے- اس انداز سے اگر اردو کے متعلق نظریات کو دیکھا جائے تو وہ نمایاں طور پر چار مختلف نظریات کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں- ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جنوبی ہند کے دکن کے علاقے(حیدرآباد،  تلنگانہ،  اس سے متصل علاقے) میں اردو کے ارتقائی مراحل کی ابتدا ہوئی، یا پھر بعض اردوداں یہ بھی کہتے ہیںکہ اردو کی ابتدا جنوبی ہند میں ہوئی-وہ کب اور کیسے، اس کی تاریخ کیا ہے، اس کی نوعیت کیا ہے-
But one thing remains to be desired that the exact place of birth of Urdu has been identified.It seems that more work and research is needed on this.
Anjuman Pravas Urdu Indo-Karnataka will continue to strive in this regard and the work of further promotion of Urdu language and literature will continue to be carried out under this association. The association thanks all the writers and women that they have taken their valuable time to prepare their grand articles by accepting the application of Anjuman and send it to the association, in future also the association hopes for the pen cooperation of the writers.
قارئین سے گزارش ہے کہ اس مجلے  پر اظہار خیال کریں اور اپنے ذرین مشوروں سے انجمن کو نوازیں تاکہ آگے چل کر اس میں مزید نکھار پیداکیا جاسکے اور اسے زیادہ سے زیادہ معلومات افزا بنایاجاسکے-
نیاز مند
محمد عبید اللہ شریف
صدر انجمن ترقی اردو ہند کرناٹک
مدیر اعلیٰ روز نامہ  ” پاسبان ” ، بنگلور

Anjuman Vikas Urdu History of Indo-Karnataka

”انجمن ترقی اردو (ہند)“ ایک قدیم انجمن ہے جو اُردو کی بقاء تحفظ اور ترقی کے لئے قائم کی گئی تھی ۔ 1903 میں جب آل انڈ یا محمڈن ایجوکیشنل کا نفرنس دہلی میں منعقد ہوئی۔ اس کا نفرنس کے کئی شعبے قائم کئے گئے۔ ایک شعبہ علم قائم ہوا۔ جس کا مقصد اردو زبان کی ترقی تھا۔ اس طرح ”انجمن ترقی اردو (ہند)“ پیدا ہوئی ۔ ملک کی مشہور اور عظیم شخصیات مولانا ابوالکلام آزاد، حکیم اجمل خان، مولانا شبلی نعمانی، مولانا الطاف حسین حالی، مولوی عبدالحق وغیرہ نے اس ادارے کی سرپرستی فرمائی ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں ”انجمن ترقی اردو “ کی شاخیں قائم ہوئیں اور کئی ریاستوں کے نوابوں ، امرا و دانشوران نے اس کی سر پرستی فرمائی۔ کرناٹک میں بھی انجمن ترقی اردو (ہند) کی شاخ قائم ہوئی۔ اس وقت کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ جناب محمد علی مہتاب علی، روز نامہ پاسبان کے بانی جناب اسماعیل تا بش یم یل سی، جناب یس ایم احمد تاج، جناب شیخ محمد مصلح الدین ، جناب سی آر محمد سید سیف الدین یم یل ہی ۔

Our association development urdu karnataka videos

عہدیداران

اعجاز علی جوہری( نائب صدر)

IJAZ ALI JOHARI (VIDE PRESIDENT)

ڈاکٹر سید عبدالقدیر( نائب صدر)

DR. SYED ABDUL KHADIR (VIDE PRESIDENT)

عبدالقدیر(نائب صدر)

ABDUL KHADIR (VIDE PRESIDENT)

سید اشرف(نائب صدر)

SYED ASHRAFF (VICE PRESIDENT)

محمد عبیداللہ شریف(صدر )

MOHAMMED OBAIDULLA SHARIFF (PRESIDENT)

شفیق عابدی(خزانچی)

SHAFEEQ ABIDI (TREASURER)

عابداللہ اطہر (تنظیمی ناظم)

ABIDULLAH ATHAR (ORGANIZING SECRETARY)

مبین منور(جنرل سکریٹری)

MUBEEN MUNAWAR (GENERAL SECRETARY)

سید شفیع احمد(نائب صدر)

SYED SHAFI AHMED (VIDE PRESIDENT)

شائستہ یوسف(نائب صدر)

SHAISTA YOUSUFF (VIDE PRESIDENT)

ڈاکٹر اسلم ٹرگیٹ(سکریٹری)

DR. ASLAM TARGET (SECRETARY)

فریدہ رحمت اُللہ(سکریٹری)

FARIDA REHMATHULLA (SECRETARY)

سمیع اُللہ(سکریٹری)

SAMIULLAH (SECRETARY) 

منیر احمد جامی(سکریٹری)

MUNEER AHMED JAMI (SECRETARY)

عہدیداران

محمد عبیداللہ شریف(صدر )

MOHAMMED OBAIDULLA SHARIFF (PRESIDENT)

سید اشرف(نائب صدر)

SYED ASHRAFF (VICE PRESIDENT)

عبدالقدیر(نائب صدر)

ABDUL KHADIR (VIDE PRESIDENT)

ڈاکٹر سید عبدالقدیر( نائب صدر)

DR. SYED ABDUL KHADIR (VIDE PRESIDENT)

اعجاز علی جوہری( نائب صدر)

IJAZ ALI JOHARI (VIDE PRESIDENT)

شائستہ یوسف(نائب صدر)

SHAISTA YOUSUFF (VIDE PRESIDENT)

سید شفیع احمد(نائب صدر)

SYED SHAFI AHMED (VIDE PRESIDENT)

شفیق عابدی(خزانچی)

SHAFEEQ ABIDI (TREASURER)

مبین منور(جنرل سکریٹری)

MUBEEN MUNAWAR (GENERAL SECRETARY)

عابداللہ اطہر (تنظیمی ناظم)

ABIDULLAH ATHAR (ORGANIZING SECRETARY)

فریدہ رحمت اُللہ(سکریٹری)

FARIDA REHMATHULLA (SECRETARY)

منیر احمد جامی(سکریٹری)

MUNEER AHMED JAMI (SECRETARY)

سمیع اُللہ(سکریٹری)

SAMIULLAH (SECRETARY) 

ڈاکٹر اسلم ٹرگیٹ(سکریٹری)

DR. ASLAM TARGET (SECRETARY)

ہماری کتابیں ڈاؤن لوڈ کریں۔

ہمارے محفوظ شدہ دستاویزات

News Events

Age verification

You must be 18 or over to access this store. If you are under 18 then must leave.